اِنْ نِّلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا


سیّدنا امام زین العابدین  ﷜

نْ نِّلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا يَوْمًا اِلٰٓي اَرْضِ الْحَرَم
بَلِّغْ سَلاَمِيْ رَوْضَةً فِيْهَا النَّبِيُّ الْمُحْتَرَم
بادِ صبا تیرا  گزر ہو جائے جب سوئے حرم
میرا سلام کہنا اُنھیں جو ہیں نبیِّ محترم

مَنْ وَّجْهُهٗ شَمْسُ الضُّحٰي مَنْ خَّدُّهٗ بَّدْرُ الدُّجٰي
مَنْ ذَآتُهٗ نُورُ الْهُدٰي مَنْ كَفُّهٗ بَحْرُ الْهِمَم
جن کا ہے رخ مہرِ مُبیں رخصار ہے ماہِ تمام
جن کی ہے ذات نورِ ہُدیٰ، دستِ عطا بحرِ کرم

قُرْاٰنُهٗ بُرْهَانُنَا نَسْخًا لِّاَدْيَانٍ مَّضَتْ
اِذْجَاءَنَآ اَحْكَامُهٗ كُلُّ الصُّحُف صَارَ الْعَدَم 
ہے ناسخِ اَدیانِ سابق، اُن کا قرآنِ ہدیٰ
اَحکام اُس کے آنے سے حکم ِ گزشتہ ہیں عدم1

اَكْبَادُنَا مَجْرُوحَةٌ مِّنْ سَيْفِ هِجْرِ الْمُصْطَفٰي
طُوْبٰي لِاَهْلِ بَلْدَةٍ فِيْهَا النَّبِيُّ المُحْتَشَم
تیغِ فراقِ آقا سے زخمی ہمارے ہیں جگر
اہلِ مدینہ کو ملا قرب اُن کا رشک کرتے ہیں ہم2

يَا رَحْمَةً لِّلعَالَمِيْن اَنْتَ شَفِيْعُ المُذْنِبِيْن
اَكْرِمْ لَنَا يَوْمَ الحَزِيْں فَضْلًا وَّ جُوْدًا وَّالكَرَم
ائے رحمتِ کُل عالمیں تم ہو شفیعِ مذنبیں
محشر کے دن سایہ فگن ہم پر بھی ہو ابرِ کرم

يَا رَحْمَةً لِّلعَالَمِينْ اَدْرِكْ لِزَيْنِ الْعَابديْن
مَحْبُوْسِ اَيْدِ الظَّالِمِينْ فِيْ الْمَوْكَبِ وَالْمزْدَحَم
مظلوم زین العابدیں کو اب سنبھالیں، یا نبیﷺ!
وہ ظالموں کی بھیڑ میں ہے مبتلائے قید و غم3

1،2،3    ان تینوں شعروں کا منظوم ترجمہ ندیم احمد ندؔیم نورانی صاحب نے کیا ہے۔

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi