گستاخ کی سزا صرف قتل


تحریر:غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی ﷫

محترم محمد اسمعیل قریشی سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان، لاہورنےبنام اسلامی جمہوریہ پاکستان، تعزیرات پاکستان کی دفعہ نومبر ۲۹۵، الف اور دفعہ ۲۹۸،الف کے خلاف شرعی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جہاں تک اہانت رسالت اور توہین وتنقیص نبوت سے اس درخواست کاتعلق ہے، میں اس سے پوری طرح متفق ہوں اور دلائل شرعیہ (کتاب وسنت، اجماع امت اورتصریحات علمادین) کے مطابق میں اس کی مکمل تائید اور حمایت کرتاہوں۔ اس سلسلے میں میرا تفصیلی بیان درج ذیل ہے:

کتاب وسنت، اجماع امت اور تصریحات ائمہ دین کے مطابق توھین رسول کی سزاصرف قتل ہے۔ رسول کی صریح مخالفت توھین رسول ہے۔ قرآن مجید نے اس جرم کی سزا قتل بیان کی ہے۔ اسی بناء پر کافروں سے قتال کاحکم دیاگیا۔ قرآن مجید میں ہے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ شَآقُّوا اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ [1] یہ(یعنی کافروں کوقتل کرنے کاحکم) اس لئے ہےکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی صریح مخالفت کرکے ان کی توھین کاارتکاب کیا۔ [2] توھین رسول کے کفر ہونے پر بکثرت آیات قرآنیہ شاھد ہیں مثلاً

وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلْعَبُ ؕ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمْ تَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾ لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ [3]

ترجمہ: اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو وہ ضرورکہیں گےہم تو صرف ہنسی مذاق کرتے تھے آپ ( ان سے کہیں کیاتم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتےہو۔ کوئی عذر نہ کرو بے شک ایمان کے بعد تم نے کفر کیا۔

مسلمان کہلانے کے بعد کفر کرنے والا مرتد ہوتا ہے اوراز روئے قرآن مرتد کی سزاصرف قتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

قُلۡ لِّلْمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقٰتِلُوۡنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوۡنَ [4]

ترجمہ : اے رسول (ﷺ) پیچھے رہ جانے والے دیہاتوں سےفرمادیجیے، عنقریب تم سخت جنگ کرنے والے کی طرف بلائے جاؤگے ان سے قتال کرتے رہوگے وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ یہ آیت مرتدین اہل یمامہ کے حق میں بطور اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگر چہ بعض علما نے اس مقام فارس وروم وغیرہ کاذکر بھی کیاہے، لیکن حضرت رافع بن خریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حسب ذیل روایت نے اس آیت کو مرتدین بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے حق میں متعین کردیا:

حضرت رافع بن خریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ہم اس آیت کو پڑھاکرتے تھےاورہمیں معلوم نہ تھاکہ وہ کون لوگ ہیں یہاں تک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (مرتدین ) بنی حنفیہ (اہل یمامہ) کے قتال کی طرف مسلمانوں کوبلایا۔ اس وقت ہم سمجھے کہ اس آیت کریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں۔ [5]

ثابت ہواکہ اگرمرتد اسلام نہ لائے ازروئے قرآن اس کی سزاقتل کے سو ا کچھ نہیں قتل مرتد کے بارے میں متعدد احادیث واردہیں ۔ اختصار کے پیش نظر صرف ایک حدیث پیش کی جاتی ہے :

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس (مرتد ہوجانے والے) زندیق لوگ لائے گئے تو آپ نے انہیں جلادیا۔ اس کی خبر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں سے فرمایااگر(آپ کی جگہ) میں ہوتاتو انہیں نہ جلاتاکیونکہ رسول اللہﷺنے فرمایا۔ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کوعذاب نہ دو اورمیں انہیں قتل کردیتا کیونکہ رسول

اللہﷺنےفرمایاجو(مسلمان) اپنےدین سےپھرجائےاسےقتل کردو۔ [6]

قتل مرتد کے بارے میں صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کاطرز عمل:

صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسند خلافت پربیٹھتے ہی جس شدت کے ساتھ مرتدین کوقتل کیا۔ محتاج بیان نہیں۔ صحابہ کرام کے لئے مرتد کوزندہ دیکھناناقابل برداشت تھا۔ حضرت موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں رسول اللہ ﷺکی طرف سے یمن کےدومختلف حصوں پرحاکم تھے۔ ایک دفعہ معاذ بن جبل حضرت موسیٰ اشعری سے ملاقات کے لئے آئے ایک بندھے ہوئے شخص کودیکھ کرانہوں نے پوچھا یہ کون ہے؟ ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا۔

یہ یہودی تھامسلمان ہونے کے بعد پھر یہودی (ہوکرمرتد) ہوگیاحضرت ابوموسیٰ اشعری نے معاذبن جبل کوبیٹھنے کے لئےکہا انہوں نے تین بار فرمایا جب تک اسے قتل نہ کردیا جائےمیں نہیں بیٹھوں گا (قتل مرتد) اللہ اور اس کےرسول کافیصلہ ہے چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حکم سے اسے اسی وقت قتل کردیاگیا۔ [7]

گستاخ رسول کاقتل

غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسال کے مرتکب مرتدکومسجد حرام میں قتل کرنے کاحکم رسول اللہﷺنے دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺمکہ مکرمہ میں تشریف فرماتھے کسی نے حضور سے عرض کی حضور(آپ کی شان میں توہیں کرنے والا) ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹاہواہےآپ نے فرمایا اقتلوہ اسے قتل کردو [8]

یہ عبدا للہ بن حنظل مرتدتھا۔ ارتداد کے بعد اس نے کچھ ناحق قتل کئے رسول اللہﷺکی ہجومیں شعر کہہ کرحضور کی شان میں توہین وتنقیص کیاکرتاتھا اس نے دوگانے والی لونڈیاں اس لئے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور کے ہجومیں اشعار گایا کریں جب حضورﷺنے اس کے قتل کاحکم دیاتواسے غلاف کعبہ سے باہر نکال کرباندھاگیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اورزم زم کے درمیان اس کی گردن ماری گئی۔ [9]

یہ صحیح ہے کہ اس دن ایک ساعت کے لئے حرم مکہ کوحضور ﷺکے لئے حلال قرار دیاگیاتھا لیکن بالخصوص مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کوقتل کیاجانا اس بات کی دلیل ہے کہ گستاخی رسول باقی مرتدین سے بدر جہابدتر وبدحال ہے۔

اجماع امت :

۱۔ محمد بن حنون نے فرمایا علماءامت کااجماع ہےکہ نبی کریم ﷺکو گالی دینے والا حضور کی توہین کرنے والا کافر ہےاور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہےاورامت کےنزدیک اس کاحکم قتل ہے جواس کے کفر اور عذاب میں شک کرے ۔کافرہے۔ [10]

۲۔ امام ابو سلیمان الخطابی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایاجب مسلمان کہلانے والا نبیﷺکے سب کامرتکب ہوتو میرے علم میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جس نے اس کےقتل میں اختلاف کیاہو۔ [11]

۳۔ اور امت کااجماع ہےکہ مسلمان کہلاکر حضور ﷺکی شان میں سب اور تنقیص کرنے والا قتل کیاجائیگا۔ [12]

۴۔ امام ابو بکر بن منذرنے فرمایا عامہ علماء اسلام کااجماع ہےکہ جو شخص نبی کریم ﷺکوسب کرےقتل کیاجائےگاان ہی میں سے مالک بن انس، لیث، احمد، اسحاق (رحمہم اللہ) ہیں اور یہی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کامذھب ہے قیاضی عیاض نے فرمایا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کایہی مقتضیٰ ہے( پھر فرماتےہیں ) اور ان ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی امام ابو حنیفہ، ان کے شاگردوں ، امام ثوری کوفہ کےدوسرے علماء اور امام اوزعی کاقول بھی اس طرح ہےان کے نزدیک یہ ردّت ہے۔ [13]

۵۔بےشک ہروہ شخص جس نے نبی کریم ﷺکوگالی دی یاحضور کی طرف کسی عیب کومنسوب کیایاحضور کی ذات مقدسہ آپ کے نسبت دین یاآپ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یاآپ پر طعنہ زنی کی یاجس نےبطریق سب اہانت تحقیر ِ شان مبارک یاذاتِ مقدسہ کی طرف کسی عیب کومنسوب کرنے کےلئےحضورکوکسی چیز سے تشبیہ دی وہ حضور کو صراحۃ ً گالی دینے والا ہے اسے قتل کردیاجائے۔ ہم اس حکم میں قطعا کوئی استثنا نہیں کرتےنہ ہم اسمیں کوئی شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحۃ ً توہین ہو یااشارۃ ً کنایۃً اور یہ سب علماء امت اوراہل فتویٰ کااجماع ہے عہد صحابہ سے لے کر آج تک رضی اللہ تعالٰی عنہم [14]

۶۔خلاصہ یہ ہےکہ نبی کریم ﷺکوگالی دینے والے کے کفر اوراس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں چاروں ائمہ (ابوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل) سے یہی منقول ہے [15]

۷۔ جوشخص رسول ﷺسے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے آپ ﷺکوگالی دینے والا بطریق اولی ٰ مستحق گردن زدنی ہے پھر (مخفی نہ رہے کہ ) یہ قتل ہمارے نزدیک بطور حد ہوگا۔ [16]

۸۔ جومسلمان رسول اللہﷺکو سب کرے یاتکذیب کرے یاعیب لگائے یاآپ کی تنقیص شان کا(کسی اور طرح سے ) مرتکب ہوتو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیااوراس سے اس کی زوجہ اس کے نکاح سے نکل گئی۔ [17]

۹۔کسی شےمیں حضور پرعیب لگانیوالا کافر ہےاور اسی طرح بعض علماء نے

فرمایا اگر کوئی حضور ﷺکے بال مبارک کوشعر کے بجائے (بصیغہ، تصغیر) ’’شعیر‘‘ کہہ دے تووہ کافر ہوجائے گا اورامام ابوحفص الکبیر (حنفی) سےمنقول ہےکسی شخص نے حضورﷺ کےکسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیاتو وہ کافر ہوجائےگااور امام محمد نے مبسوط میں فرمایا کہ نبی ﷺکوگالی دیناکفرہے۔ [18]

۱۰۔ کسی مسلمان کواس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریمﷺ کی اھانت وایذا رسانی کاقصد کیااور وہ مسلمان کہلاتا ہے وہ مرتد مستحق قتل ہے۔ [19]

یہاں تک ہمارے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کتاب سنت اجماع امت اوراقول علمائے دین کے مطابق گستاخی رسول کی سزا یہی ہےکہ وہ حد اًقتل کیاجائے اس کے بعد حسب ذیل امور کی وضاحت بھی ضروری ہے۔

۱: بارگار نبوت کی توہین وتنقیص کوموجب حد جرم قراردینے کےلئے یہ شرط صحیح نہیں کہ گستاخی کرنے والے نے مسلمانوں کے مذہبی کومشعل کرنے کی غرض سے گستاخی کی ہو۔ یہ شرط ہر گستاخ نبوت کے تحفظ کے مترادف ہوگی اور توہین رسالت کادروازہ کھل جائیگا ہر گستاخ نبوت اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لئے یہ کہہ کر چھو ٹ جائے گا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا میری غرض نہ تھی علاوہ ازیں یہ شرط کتاب اللہ کے بھی منافی ہے سورۃ توبہ کی آیت ہم لکھ چکے ہیں کہ توہین کرنے والےمنافقوں کایہ عذرہوگاکہ ہم آپس میں صرف دل لگی کرتے تھے ہماری غرض توہین نہ تھی نہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کومشتعل کرنا ہمارامقصد تھااللہ تعالیٰ نے مسترد کردیا

اور واضح طورپر فرمایا لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ

بہانے نہ بناؤ ایمان کے بعد تم نے کفر کیا۔ سورۃ توبہ آیت نمبر۲۲پارہ نمبر ۱۰

۲۔صریح توہیں میں نیت کااعتبار نہیں ۔ راعنا کہنے کی ممانعت کے بعد اگر کوئی صحابی نیت توہین کے بغیر حضور ﷺکو راعنا کہتا تو وہ واسمعو وللکافر ین عذاب الیم کی قرآنی وعید کامستحق قرار پاتا جواس بات کی دلیل ہےکہ نیت توہین کے بغیر بھی حضور کی شان میں توہین کاکلمہ کہنا کفرہے۔

امام شہاب الدین خفاجی حنفی ارقام فرماتے ہیں۔

توہیں رسالت پر حکم کفر کامدار ظاہر الفاظ پر ہے توہین کرنے والے کے قصد ونیت اور اس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائے گا۔ [20] ۔۔۔ورنہ توہین رسالت کا دروازہ کبھی بندنہ ہوسکے گا کیونکہ ہوگستاخ یہ کہہ کربری ہو جائے گاکہ میری نیت اور ارادہ توہین کا نہ تھا

لہذا ضروری ہےکہ توہین صریح میں کسی گستاخی نبوت کی نیت اور قصد کااعتبار نہ کیاجائے۔

۳۔ یہاں اس شبہ کاازالہ بھی ضروری ہےکہ اگرکسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور اسلام کی صرف ایک وجہ کا احتمال ہوتو فقہا کا قول ہے کہ کفر کافتوی نہیں دیاجائے گا اس کاازالہ یہ ہےکہ فقہا کایہ قول اس تقدیر پر ہے کہ کسی مسلمان کے کلام ننانوے وجوہ کفر کاصرف احتمال ہوکفر صریح نہ ہولیکن جو کلام مفہوم توہین میں صریح ہو اس میں کسی وجہ کو ملحوظ رکھ کر تاویل کرناجائز نہیں اس لئے کہ لفظ صریح میں تاویل نہیں ہوسکتی قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا۔

حبیب بن ربیع نے فرمایا کہ لفظ صریح میں تاویل کادعویٰ قبول نہیں کیاجائے گا۔

کسی کلام کاتوہین صریح ہونا عرف اور محاور پر مبنی ہےمعذرت کے ساتھ بطور مثال عرض کرتاہوں کہ اگر کسی کوولدالحرام کہاجائے اورکہنے والا لفظ حرام کی تاویل کرے اور کہے کہ میں نے ’’المسجد الحرام ‘‘ اور ’’بیت اللہ الحرام ‘‘ کی طرح معظم ومحترم کے معنی میں یہ لفظ بولا ہے تو اس کی یہ تاویل کسی ذی فہم کے نزدیک قابل قبول نہ ہوگی کیونکہ عرف اور محاورے میں ولدلحرام کالفظ گالی اورتوہین ہی کے لئے بولاجاتاہےاسی طرح ہروہ کلام جس سے عرف ومحاورے میں توہین کے معانی مفہوم ہوتے ہوں توہین ہی قرار پائے گاخواہ اس میں ہزار تاویلیں ہی کیوں نہ کی جائیں عرف اورمحاورے کے خلاف تاویل معتبر نہ ہوگی۔

۴۔ یہاں اس شبے کو دورکرنابھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر توہین رسول کی سزاحد اًقتل کرناہے توکئی منافقین نے حضور ﷺکی صریح توہین کی بعض اوقات صحابہ کرام نے عرض کی کہ حضور ہمیں اجازت دیں کہ اس گستاخ منافق کو قتل کردیں لیکن حضور ﷺ نے اجازت نہیں دی ۔

ابن تیمیّہ نے اس کے متعددجوابات لکھے ہیں جن کاخلاصہ حسب ذیل ہے [21]

۱۔ اس وقت ان لوگوں پر حد قائم کرنافساد عظیم کاموجب تھاان کلمات توہین پر صبرکرلینا اس فساد کی نسبت آسان تھا۔

ب۔ منافقین اعلانیہ توہین رسالت نہ کرتے تھے بلکہ آپس میں چھپ کر حضورﷺکے حق میں توہین آمیز باتیں کیاکرتے تھے۔

ج۔ منافقین کے ارتکاب توہین کے موقع پر صحابہ کرام کاحضور سے ان کے قتل کی اجازت طلب کرنا اس بات کی دلیل ہےکہ صحابہ کرام جانتے تھے گستاخ رسول کی سزاقتل ہے۔ گستاخان شان رسالت ابو رافع یہودی اور کعب بن اشرف کوقتل کرنے کاحکم رسول اللہ ﷺنے صحابہ کودیا تھااس حکم کی بناء پرصحابہ کرام کوعلم تھاکہ حضور ﷺکی شان میں توہین کرنے والا قتل کامستحق ہے۔

د۔ رسول اللہﷺکےلئےجائزتھا کہ وہ اپنی گستاخی اور موذی کواپنی حیات میں معاف فرمادیں لیکن امت کےلئے جائزنہیں کہ وہ حضور کے گستاخ کومعاف کردے۔

نبی کریم ﷺاور دیگر انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے اس حکم کوبجالائے کہ آپ معافی کواختیار فرمائیں اور جاہلوں سے منہ پھر لیں اور نیکی کاحکم دیں (سورۃ اعراف آیت ۱۹۹)

میں عرض کروں گاکہ گستاخ رسول پر قتل کی حد جاری کرناایسی حد ہے جورسول اللہﷺکااپنا حق ہے اگر چہ رسول اللہ ﷺکی توہین حضور کی امت کے لئےبھی سخت ترین اذیت کاموجب ہےاور اس طرح اس حد کوپوری امت کاحق بھی کہاسکتاہے لیکن بلاواسطہ نہیں بواسطہ ذات اقدس کے اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور کویہ اختیار حاصل تھاکہ اپنایہ حق کسی کوخود معاف فرمادیں جیساکہ بعض دیگراحکام شرح کے متعلق دلیل سے ثابت ہوتاہےکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے احکام میں حضور کواختیار عطافرمایا۔ مثلاً حضرت براء بن عازب سےروایت ہےکہ رسول اللہﷺنے حضرت ابوبردہ کوبکری کے ایک بچے کی قربانی کرنے کاحکم دیااور فرمایا۔

ولن تجزی عن احد بعدک [22]

کہ (یہ قربانی) تمہارے علاوہ کسی دوسرے پرہر گز جائز نہیں ۔

اسی طرح حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہےکہ جب حضور نے حرم مکہ کی گھاس کاٹنے کوحرام قرار دیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی الا الا ذخر یعنی ازخرگھاس کوحرمت کے اس حکم سے مستثنیٰ فرمادیں ۔ حضور نے فرمایاالاالا ذخر یعنی اذخر کوحرمت کے حکم سے ہم نے مستثنی ٰ فرمادیا

اس حدیث کےتحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی تحریر فرماتے ہیں۔

’’ودر مذہب بعضے ان اسب کے احکام مفوض بودبوے ﷺہرچہ خواھد وبرہر کہ خواھرحلال وحرام گرداند وبعضے گویند بااجتہاد گفت۔ واوّل اصح واظھراست [23]

یعنی بعض کامذہب یہ ہے کہ احکام شرعیہ حضور ﷺکے سپرد کردیئے گئے تھے جس کےلئے جوکچھ چاہیں حلال اور حرام فرمادیں بعض لوگ کہتے ہیں حضور نے یہ اجتہاد کے طور پر فرمایا تھااور پہلا مذہب اصح اور اظھر ہے۔

ان احادیث کی روشنی میں حضورﷺ کو یہ اختیار حاصل ہوسکتاہےکہ کسی حکمت ومصلحت کےلئے حضور ﷺان منافقین پر قتل کی حد جاری نہ فرمائیں لیکن حضور علیہ الصلوۃ السلام کے بعد کسی کویہ اختیار نہیں ۔

آخر میں عرض کروں گا کہ توہین رسالت کی حد اسی پر جاری ہوسکے گی جس کاجرم قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوجائے اس کے بغیر کسی کو اس جرم کامرتکب قرار دےکر قتل کرناہرگز جائز نہیں ۔ تواتر بھی دلیل قطعی ہے اگر کوئی شخص توہین کےکلمات صریحہ بول کریالکھ کراس بات کااعتراف کرے کہ یہ کلمات میں نے بولے یامیں نے لکھے ہیں تویقیناًوہ واجب القتل ہےخواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے اورکہتا پھرے کہ میری نیت توہین کہ نہ تھی یاان کلمات سے میری غرض یہ نہ تھی کہ میں مسلمان کے مذہبی جذبات کی ٹھیس پہنچاؤں بہرحال وہ مستحق قتل ہے۔

علی ھذا وہ لوگ جونبی کریم ﷺکی توہین صریح کی تاویل کرکے اس مرتکب کوکفر سے بچاناچاہیں بالکل اسی طرح قتل کےمستحق ہیں جیسا کہ خودتوہین کرنے والا مستوجب حد ہے شاتم رسول کے حق میں محمد بن حنون کاقول ہم شفا قاضی عیاض اور الصارم المسلول سے نقل کرچک یں کہ

وَمَنْ شَکَّ فِیْ کُفرِہٖ وَعَذَابِہٖ کَفَرَ [24]

 



[1] ۔سورۃ انفال آیت ۱۳

[2] ۔البحرالمحیط ص ۴۷۱۔ج۴

[3] ۔سورۃ التوبہ آیت نمبر ۶۶،۶۵ پارہ ۲۶

[4] ۔سورۃ الفتح آیت ۱۶ پارہ ۲۶

[5] ۔ البحرالمحیط ص۹۴ روح المعانی ص۱۰۲ پ۲۶

[6] ۔ ابی داؤ ص ۵۹۷ج۲ ، صحیح بخاری ص ۲۴۳ج۱،ص ۱۰۲۳ج۲ص۱۰۹۶ج ابوداؤ ص۵۹۸ج۲ ، ترمذی ص۱۷۶ج۱، نسائی نمبر۱۵۱،ابن ماجہ۱۸۵، مسند احمد ص۲۳۱ج۵ عن معاذ ۔ تفسیری مظہری ص۱۳۵ج۳، روح المعانی ص۱۲۰پ ۲

[7] ۔ بخاری ص۱۰۲۳۔ابوداؤ د ص ۵۹۸

[8] ۔نسائی ص ۱۵۲، ج ۲

۔فتح الباری ص۱۳ج۸ ،عمدۃ القاری ص ۳۴۷ج۸،ارشاد الساری ص ۳۹۲ج۲ [9]

[10] ۔الشفاص۲۱۵،۲۱۶ج۸نسیم الریاض شرح الشفاءص۳۳۸ج۴الردالمحتار ص۳۱۷ج۳۔الصارم المسلول ص۴

[11] ۔الشفاءص۲۱۶ج۲، فتح القدیر شرح ہدایہ ص۴۰۷ج۴ ۔الصارم المسلول ص۴

[12] ۔بخاری ص۲۴۹ج۲

[13] ۔الشفاءص۲۱۱ج۲

[14] ۔ الشفاء ص ۲۱۴ج۲،الصارم المسلول ص ۵۳۵طبع بیروت

[15] ۔ فتاویٰ شامی حنفی ص۳۲۱ج۳، نحوالصام المسلول الحسنبلی ص۴

[16] ۔فتح القدیر (امام ابن ھمام حنفی) ص۴۰۷ج۴

[17] ۔ کتاب الحزاج امام ابو یوسف ص ۱۸۲۔ فتاوی ٰ شامی ص ۳۱۹ج۳

[18] ۔ فتاوی قاضی خان ص۸۸۲ ج۴ (طبع نولکثور)

[19] ۔احکام القرآن الجصاص ص۱۰۶ج۳

[20] ۔نسیم الریاض شرح الشفاء ص ۴۲۶ج۴

[21] ۔ بخاری ص۸۴۳ج۲

[22] ۔ بخاری ص۱۲۱ ، مسلم ص۴۳۸ج۱

[23] ۔ اشعۃ اللمعات ص ۴۰۸ ج۲، مسک الختام ص۵۱۲ج۲

[24] ۔ الشفاء قاضی عیاض ص ۲۱۶،۲۱۵ج۲، الصارم السلول ص۴۔

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi