شہداے قندوز


سوگوار: علامہ شہزادمجددی

کیا لکھوں لفظ مر گئے سارے

لو شہید اپنے گھر گئے سارے

جن کو زیبا تھی دین کی دستار

وہ تہہ خاک سر گئے سارے

دشمنِ جاں کا نام سنتے ہی

کیوں عزادار ڈر گئے سارے

مرثیہ خواں ہیں منبر و محراب

ہائے وارث کدھر گئے سارے

دیکھ کر اہلِ علم کا مقتل

لوگ باچشمِ تر گئے سارے

صرف دستار ہی نہیں شہؔزاد

دے کے جاں باز سر گئے سارے

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi