مہینوں کا سردار رمضان آنے والا ہے

مہینوں کا سردار، رمضان آنے والا ہے۔۔۔! از:سیّد محمد مبشر قادری (ریسرچ اسکالر/ ڈائریکٹر؛ اسکالرز انسائیکلوپیڈیا پروجیکٹ) مبارک ہو ۔۔۔مبارک ہو ۔۔۔ رمضان آنے والا ہے ۔۔۔ رمضان آنے سے چھ ماہ قبل ہی سے دربانِ نبیﷺ اپنے ساتھیوں کو رمضان کے آنے کی مبارک باد دیتے۔۔۔ سرورِ عالمﷺاس ماہ ِ مبارک کی آمد سےقبل ہی اللہ جل شانہ سےاس کی برکتیں عطا کرنےکی دعائیں فرماتے۔۔۔یا اللہ! رجب اور شعبان میں برکتیں عطا فرما،اور ماہِ رمضان کی مقدس ساعتیں نصیب فرما۔ اور پھرخود دربارِ رسالتﷺ سے جاں نثاروں کو ماہِ رمضان کی مبارک باد ملتی۔۔۔ فقیر نے اپنے پچھلے شمارے کے اداریے میں اس عنوان پر مختصراً ترغیبی قلم سے کچھ لکھنے کی جسارت کی۔۔۔ اورپھر اسی عنوان کو مزید بڑھاتے ہوئے ایک مستقل مضمون کے لکھنے کا ارادہ کیا ۔۔۔ عالم ِاسلام میں یہ ایسا واحدمہینہ ہے، جسے دنیا بھر کےمسلمانانِ عالم بڑے احترام و انصرام سے مناتے ہیں،اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ، خاندان و قبیلہ میں یک جا ہوکرمعمولات سر انجا م دیتے ہیں۔ قا رئین محترم۔۔۔! جیسا کہ ہر بڑے تہوار و ایونٹ کے پیچھے بڑی بڑی پلاننگ و تیاریاں ہوتی ہیں۔۔۔اسی طرح ان کے بیک گراونڈ پر مفاد پرست و شر پسند عناصر بھی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔۔۔ حکومت ۔۔۔! بعض اسلامی ممالک کے حکمران ماہِ رمضان میں اپنی عوام کو ریلیف دیتے ۔۔۔ پیکجز دیتے نظر آتے ہیں۔۔۔ اشیائے خورد و نوش کے نرخوں میں کمی کی جاتی ہے۔۔۔دعوتِ افطار کا اہتمام ہوتاہے۔۔۔ اوقاف سے قُرّا،حفاظ اور علمائے کرام کو تفویض اسناد و انعام ملتے ہیں۔۔۔ اور حاکمِ وقت کی طرف سے تحائف بھی دیے جاتے ہیں۔۔ ۔باقی رہی ہماری حکومت!۔۔۔۔ تو یہ اس کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ کیوں کہ اگرحفاظ، قُرّا، علما، مفسرین، محدثین، مدرسین، مصنفین،اپنے دینی اقدار کےمحافظین کو بھی ریاست و حکومت کی طرف سےگولڈ میڈل دیاجانے لگے؛ تو یورپ و امریکہ میں ہمارے ملک کےبارے میں انتہاپسندی و اسلام پسندی کاتأثر جائےگا۔۔۔۔۔۔۔ لبرلز، سیکولرز، موم بتی آنٹیاں؛ اور نام نہاد آزاد میڈیا آسمان سر پہ اٹھا لے گا۔ جیسے ان پرقیامت ٹوٹ پڑی ہو۔۔۔صرف ایک مثال ۔۔۔قارئینِ کرام! آپ نے دیکھا ہوگا۔۔۔! ہمارے ملک میں اپنے وقت کے سب سےبڑے عالم کا انتقال ہوجائے، تویہ دین سے آزاد میڈیا۔ ۔۔۔افسوس تو دور کی بات ہے۔۔۔انتقال کی خبر بھی نشر نہیں کرتا۔۔ اگر ملک/ بیرون ملک میں۔۔۔ کوئی فلمی ایکٹر یا اسلام و ملک دشمن ’’آں جہانی‘‘ ہوجائے۔۔۔ تو یہ دین سےآزاد میڈیا اس پر آسمان سر پہ اٹھالیتا ہے۔۔۔کئی دن تک اس پر، پروگرام ہوتےہیں۔۔۔سال بعد خصوصی نشریات؛ اور ڈاکومنٹری نشر کی جاتی ہے۔۔۔ اخبارات کے صفحات کے صفحات اس پر کالے کیےجاتے ہیں۔۔۔ آیئے! ۔۔۔ قوم پر نظر کرتے ہیں۔۔۔ قوم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتی ہے۔۔۔ رمضان کے آنے سے پہلے۔۔۔ اشیا میں ملاوٹ۔۔۔ پھلوں کی قیمت میں اضافہ۔۔۔ افطار میں خاص استعمال کی جانے والی اشیا میں جعل سازی۔۔۔اور بہت کچھ۔۔۔ جو ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ یہ سب؛ قوم خود کرتی ہے ۔۔۔ اپنے ہی مسلمان بھائی کو مضرِ صحت اشیا بیچ کر۔۔۔ اپنے ہی مسلمان بھائی کو مہنگے دام سے نقصان پہنچاکر۔۔۔اپنے ہی مسلمان بھائی کو خرافات کی دعوت دے کر۔۔۔ اپنے ہی مسلمان بھائی کا میڈیا کے ذریعے روزہ خراب کر کے۔۔۔ اپنے ہی مسلمان بھائی کی گیم شو سے تراویح ضائع کر کے۔۔۔اور کیا کیا لکھوں اپنی قوم کے بارے میں۔۔۔ مہینوں کےسردار کااستقبال کیسے کریں ۔۔۔؟  سب سے پہلے مہینوں کے سردار کی آمد کی مبارک باد دینے کا آغاز اپنے گھر والوں سے کیا جائے اور پھر ہم سائے، رشتے دار، دوست و احباب، عزیز و اقارب وغیرہ کو مبارک باد دینے سے رمضان کا استقبال کریں۔ رسولِ اعظم ﷺ رمضان المبارک کی آمد پر اپنے صحابہ کو مبارک بادی وخوش خبری سنا تے ہوئے فرماتے: رمضان کا مہینہ تمہارے اوپر سایہ فگن ہورہا ہے، جوخیر وبرکت سے مالامال ہے۔ پھر اس کی رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں کاذکر فرماتے۔  آمدِ رمضان سے قبل فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اہتمام، بالخصوص قضا نمازیں اور قضا روزوں کی ادائگیک سے رمضان المبارک کا استقبال کریں ۔  تمام لغزشوں، کوتاہیوں پر توبہ سے، رمضان المبارک کا استقبال کریں۔  عام طور پر رمضان المبارک میں مالی حقوق جیسے زکوٰۃ، عشر، صدقۂ فطر، نذر وغیرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے متعلق تفصیلی احکامات پہلے سے معلوم کرلیے جائیں، اسی طرح جو مالی حقوق ذمّےمیں ہوں (جیسے بیوی کا مہر یا کسی کا قرض وغیرہ) اور ادا کرنے کی قدرت بھی ہو تو رمضان سے پہلے ادا کرلیں، اور نماز، روزہ، تراویح، صدقۂ فطر، زکوٰۃ، اعتکاف وغیرہُم سے متعلق احکامات سیکھیں اور دوسروں کو سکھا کر رمضان المبارک کا استقبال کریں۔  رشتے ناطے توڑنا اور قطعِ رحمی وعدمِ تعلق، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ ہیں، لہٰذا رمضان المبارک کی آمدسے قبل ہی اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرکے رمضان المبارک کا استقبال کریں۔  خود اپنا اور گھر والوں کا صدقہ دیتے رہنے سے، مطمئن دل کے ساتھ رمضان کا استقبال کریں۔  یہ نزولِ قرآنِ مجید کا مہینہ ہے، تلاوتِ قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں تاکہ رمضان المبارک کی آمد تک آپ کثرت سے تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں، چھوٹی چھوٹی سورتیں ابھی سے یاد کریں۔ نیز اگر آپ حافظِ قرآن ہیں تو ابھی سے قرآنِ کریم دہرانا شروع کردیں، اور قرآنِ حکیم کی تلاوت کرتے کرتے رمضان المبارک کا استقبال کریں۔  ضروریاتِ زندگی کے پیشِ نظر گھر میں یا کاروباری جگہ پر کوئی تعمیراتی یا رنگ وروغن کا کام کروانا ہو، مشین کی مرمت ہو، گاڑی یا سواری کا کوئی کام ہو اسی طرح دفاتر وکارخانوں کے محنت طلب پروجیکٹس ہوں تو انہیں رمضان المبارک سے پہلے پہلے نمٹانے کی کوشش کریں تاکہ سکون و اطمناسن سے اپنے ہر دل عزیز مہمان رمضان المبارک کا استقبال خوب اچھے طریقے سے کر سکیں۔  کاروباری حضرات نوکر وملازمین سے محنت طلب اور مشکل کام پہلے کروالیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (خادم،ملازم) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرماتا ہے، اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتا ہے۔  سگریٹ، نسوار، پان، گٹکا ودیگر نشہ آور اشیا کا استعمال کم کرنے سے رمضان کااستقبال کریں، بلکہ ابھی سے محدود کردیں، تاکہ روزے کی حالت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑےاور رمضان المبارک کا استقبال صاف و شفاف جسم سے کریں ۔  رمضان میں وقت کے قدردان بنیے! اپنے ہاتھوں میں ٹیب و موبائل کی بجائے قرآن و تسبیح تھام لیں۔ انٹرنیٹ وسوشل میڈیا، واٹس اپ ، فیس بک وغیرہ سے اجتناب کرتے ہوئے وقت کے ضیاع سے بچیں اور ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں۔  کوئی شک نہیں کہ ٹی وی خرافات کا مجموعہ ہے لہٰذا رمضان شریف کی آمد سے قبل اس سے بچنے کی کوشش کریں ۔خاص طور پر ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر تمام پروگرام غیر شرعی اور مخلوط ہیں۔ یہ سوچ کر کہ یہ دینی و مذہبی پروگرام ہیں تو اسے بنیاد بناکر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوش مندی نہیں۔ ان پروگراموں میں موسمی دین کے ٹھیکے دار قابض ہوجاتے ہیں جو سال کے 11 مہینے ناچ گانے اور فحش پروگرام کے میزبان و مہمان ہوتے ہیں اور رمضان کے ایک مہینے دین و شریعت سکھانے (بگاڑنے ) کا کام کرتے ہیں، جس پر حکومتِ وقت خاموش تماشائی بنی رہتی ہےاور پھر ان دینی پروگرامز کے دوران اشتہارات میں موسیقی اور نامحرم عورتیں رمضان کی روحانیت ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔کبھی بھی دنیاوی انعام کےلالچ میں آخرت کا انعام جو دائمی ہےضائع نہ کریں۔یہ ماہِ مقدس میں ’’نیلام گھر/انعام گھر‘‘ یہ در اصل ’’نقصان گھرہیں‘‘ جن میں بے حیائی و خرافات کےساتھ ساتھ دین کامذاق اڑایا جارہاہوتاہے۔ اگر انعام حاصل کرنا ہے۔۔۔۔تو ’’نیلام گھر‘‘ نہیں۔۔۔ بلکہ ’’اللہ کےگھر‘‘ جاکر تراویح کی صورت میں کلام اللہ سماعت فرمائیں۔۔۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور قرآن کی برکتوں سے مالا مال ہوجائیں۔۔۔  ہم اس بات پر بھی غور کریں اور توجہ دیں کہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے شاپنگ وخریداری کا نہیں۔ رمضان میں بے ضمیر افراد کی وجہ سے مہنگائی سے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے؛ لہٰذا، رمضان کی آمد سے قبل ہی عید الفطر کی شاپنگ مکمل کرلیں اور اپنے خاندان کو بھی یہ بات سمجھائیں۔ بالخصوص رمضان البا رک کا آخری عشرہ مغفرت کا عشرہ اور بڑی طاق راتوں اور بڑے مبارک دنوں کا عشرہ ہے، اسے بازاروں کی بجائے مسجدوں میں گزاریں اور عورتیں گھروں میں عبادت و ریاضت میں مصروف رہیں۔ رمضان شریف کے آنے سے قبل اپنے گھروالوں سے اس کی تربیت کا آغاز کریں ۔

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi