اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک

آیاتِ قرآنی: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لئے ہدایت اور رہ نمائی اور فیصلے کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔ (پارہ2، سورۃ البقرۃ: 185، ترجمہ: کنزالایمان) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جسےہ اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہں تمہں پرہزتگاری ملے۔ (پارہ2، سورۃ البقرۃ: 183، ترجمہ: کنزالایمان) وجہِ تسمہ،: رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہنہ: ہے، اس کی وجہ تسمہں یہ ہے کہ رمضان ’’رمض‘‘ سے ماخوذ ہے اور رمض کا معنیٰ ’’جَلانا ‘‘ہے۔ چوں کہ یہ مہنہم مسلمانوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گان ہے۔ یا اس لئے یہ نام رکھا گات ہے کہ یہ ’’رمض‘‘ سے مشتق ہے جس کا معنٰی ’’گرم زمنن سے پاؤں جلنا‘‘ ہے۔ چوں کہ ماہِ صاضم بھی نفس کے جلنے اور تکلفی کا موجب ہوتا ہے لہٰذا اس کا نام رمضان رکھا گاگ ہے۔ یا رمضان گرم پتھر کو کہتے ہںج، جس سے چلنے والوں کے پاؤں جلتے ہںا۔ جب اس مہےور کا نام رکھا گات تھا اس وقت بھی موسم سخت گرم تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ رمض کے معنیٰ برساتی بارش، چوں کہ رمضان بدن سے گناہ بالکل دھو ڈالتا ہے اور دلوں کو اس طرح پاک کردیتا ہے جسےا بارش سے چزلیں دھل کر پاک و صاف ہو جاتی ہںس ۔(غنیۃ الطالبین ، صفحہ 383تا384) فضائل رمضان المبارک احادیث کی روشنی مںس: 1۔ بے شک جنّت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نچےہ ہوا سفدب اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہںا کہ اے پروردگار! اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔( رواہ البیہقی فی شعب الایمان، مشکوۃ، ص ۱۷۴) 2۔ رمضان المبارک کی ہر رات مںا ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خرر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کراوراے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔ کام کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔ کاا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ۔ کاہ کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کاا جائے۔ اللہ بزرگ و برتر رمضان شریف کی ہر رات مںو افطاری کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتاہے۔ جب عدو کا دن آتا ہے تو اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے کہ جتنے تمام مہےکی مں آزاد فرماتا ہے۔ اَلشَّہْر ثَلَا ثِیْنَ مَرَّۃً سِتِّیْنَ اَلْفًا تسک مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار(یینا اٹھارہ لاکھ)۔ (زواجر، جلدِ اوّل) 3۔سدَّنا حضرت ابو ہریرہ راوی ہںّ کہ رسول خُداﷺ نے فرمایا کہ ’’آدم کے بٹےم کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے ایک نیَّ سے دس گنا سے سات سو تک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’مگر روزہ کہ اس کا ثواب بے شمار ہے ، بے شک وہ مروے لےک ہے اور مںا ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ روزہ دار اپنی خواہش اور طعام مرلے لئے چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشا ں ہںا: ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک خوشی دیدارِ الٰہی کے وقت ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہےاور روزے ڈھال ہںط۔‘‘(رواہ البخاری و مسلم؛ مشکوٰۃ، ۱۷۳) 4۔ جب رمضان آتا ہے تو جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہںو اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہںت، اور شا طن جکڑ دیے جاتے ہں ۔(بخاری) رمضان کے حروف اور ان کی برکتں : رمضان کے پانچ حروف ہںو: ’’ر‘‘ رضوان اللہ (اللہ کی خوشنودی) ہے۔ ’’م‘‘ محابۃ اللہ کی ہے (اللہ کی محبت)۔ ’’ض‘‘ ضمان اللہ کا ہے (یینے اللہ تعالیٰ کی ذمّے داری) ’’الف‘‘ الفت کا ہے اور ’’ن‘‘ سے مراد نور اور نوال ہے (مہربانی اور بخشش) (غنیۃ الطالبین، صفحہ ۳۹۰)

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi