سخن ضیائے طیبہ


اداریہ ٹھپّہ تو لگانا ہے۔۔۔ آنے والے انتخابات اور میرا حق رائے دہی!!

جو بات حق ہو وہ مجھ سے چھپی نہیں رہتی خدا نے مجھ کو دیا ہے دلِ خبیر و بصیر

مری نگاہ میں ہے یہ سیاستِ لادیں کنیز اہرمن و دوں نہاد و مردہ ضمیر

ہوئی ہے ترک کلیسا سے حاکمی آزاد فرنگیوں کی سیاست ہے دیو بے زنجیر

متاعِ غیر پہ ہوتی ہے جب نظر اس کی تو ہیں ہراولِ لشکر کلیسیا کے سفیر

ٹھپّہ تو لگانا ہے ۔۔۔ جی ہاں معزز قارئین ۔۔۔ وطنِ عزیز پاکستان میں آنے والے الیکشن کا شوروغل۔۔۔ چیختا چلاتا میڈیا۔۔۔ سبز و سرخ کپڑے میں لپٹے پول۔۔۔ عجیب نشانات سے بھری دیواریں۔۔۔ نامزدو نااہل امیدواروں کی کالی سفید سرخیاں۔۔۔ بدلتے چہروں کے پوسٹرز سے آویزاں سڑکیں۔۔۔ اور ناچتا و نچواتا سوشل میڈیا ۔۔۔ ایک شہری کو ٹھپّہ لگائے بنا چین سے بیٹھنے نہیں دے گا۔۔۔آنے والے انتخابات میں عوامی حق رائے دہی کے حصول کے لئے موجودہ جدید گلوبل ویلیج کی ہر چال کو ناپ تول سے استعمال کرنے کا ہنر آزمایا جارہا ہے۔۔۔

فکرِ اقبال۔۔۔ قبلِ پاکستان کی تحریک و جدوجہد۔۔۔تاریخِ پاکستان کے اوراق۔۔۔ نکاتِ قائد۔۔۔رہنمائے تحریکِ پاکستان۔۔۔ قربانیاں و شہادتیں۔۔۔ اور ماضی و حال کی سیاست ۔۔۔ تمام تر احوال و آثار کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔۔۔ تو تجزیے کے نتیجے میں مؤرخ یہ لکھنے پر مجبور ہو گا کہ۔۔۔ دینِ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس خطے میں نفاذِ شریعت و نظامِ مصطفیٰﷺ کو خود ان کے بااختیار دست راستوں نے لاگو ہونے نہیں دیا ۔۔۔جب کہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان نامی ملک کی منتخب حکومتوں کے دشمنانِ اسلام کی پشت پناہی میں ملوث ہونے کے ثبوت ظاہر ہوئے۔۔۔اور ۔۔۔ بس جناب! مؤرخ لکھے گا۔۔۔ راقم پڑھے گا۔۔۔کیوں کہ۔۔۔

یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے

ملحدین و سیکولرازم اور ان کے حامی۔۔۔ پولیٹکس کے نظام کو اسلام سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔کہتے ہیں کہ سیاست میں دین و مذہب کا کیا کام۔۔۔؟ ملاّ کیوں حریفِ اقتدار بن کر میدان میں کھڑے ہیں۔۔۔؟

ذرا یہ لوگ تحقیق کی عینک سے دیکھیں کہ جس سر زمین پر وہ بڑے مزے سے بسے ہوئے ہیں اس سر زمین کے حصول میں بلند اقبال کی ٹینشن و فکر کس حد تک اثر انداز تھی ۔۔۔ تحریکوں کی تاریخ کا موٹے موٹے عینک سے مطالعہ کریں کہ سب سے زیادہ تگ و دو میں خالص مذہبی و نظریاتی چہرے پیش پیش تھے۔۔۔

اقبال نے دین اور سیاست کے بارے میں اپنے خطبہ الہ آباد (1930ء)میں بیان کیاکہ

’’ کیا واقعی مذہب ایک نجی معاملہ ہے؟ اور آپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ ایک اخلاقی اور سیاسی نصب العین کی حیثیت سے اسلام کا بھی وہی حشر ہو جو مغرب میں مسیحیت کا ہوا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اسلام کو بطور ایک اخلاقی تخیل کے تو برقرار رکھیں لیکن اس کے نظامِ سیاست کی بجائے ان قومی نظامات کو اختیار کریں جس میں مذہب کی مداخلت کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔۔۔ (دین اور سیاست) دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ نے ایک کو ترک کیا تو بالآخر دوسرے کا ترک بھی لازم آئے گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لیے بھی کسی ایسے نظامِ سیاست پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہوگا جو کسی ایسے وطنی یا قومی اصول پر مبنی ہو جو اسلام کے اصولِ اتحاد کی نفی کرے۔‘‘

اقبال کے خطبے کا یہ اقتباس بڑا واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں کہ اقبال دین اور سیاست کو الگ نہیں بلکہ دونوں کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ اقبال نے آل انڈیا مسلم کانفرنس لاہور (1932) کے خطبے میں اپنے اس تصور کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

’’سیاست کی جڑیں انسان کی روحانی زندگی میں ہیں۔ یہ میرا عقیدہ ہے کہ اسلام ذاتی رائے کا مسئلہ نہیں ہے، اسلام ایک سماج ہے۔ آپ اسے سِوِک چرچ (Civic Church) بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘

اقبال نے 10 دسمبر 1931ءکو کہا:

’’میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دہریت اور مادّیت سے محفوظ رہیں۔ اہلِ یورپ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مذہب اور حکومت کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ اس طرح ان کی تہذیب روح اخلاقی سے محروم ہوگئی اور اس کا رخ دہریانہ مادیت کی طرف پھر گیا۔‘‘

لادیں ہو تو ہے زہر ہلاہِل سے بھی بڑھ کر ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاق

اور پھر 24؍ نومبر 1945ء کو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے خانقاہِ مانکی شریف صوبۂ سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) میں علمائے کرام اور مشائخِ عظام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’آپ نے سپاس نامے میں مجھ سے پوچھا ہے کہ پاکستان کا قانون کون سا ہوگا؟ مجھے آپ کے اس سوال پر سخت افسوس ہے کہ آپ مجھ سے دریافت کر رہے ہیں کہ پاکستان میں کون سا قانون ہوگا، میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسلمان کا ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن ہے، یہی قرآن مسلمان کا قانون ہے، جو آج سے تیرہ سو سال پہلے حضرت محمد ﷺ کی وساطت سے ہمیں ملا ہے۔ یہی قرآن ہمارا قانون ہے۔‘‘

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

قارئین محترم۔۔۔! آج راقم نظریاتی قارئین سے مخاطب ہے ۔۔۔بغور سوچیں کہ آزاد میڈیا کے دور میں اب یہ سب کب تک چلے گا۔۔۔ ہم ستر سال سے ٹھپّہ مانگنے والوں کی چپڑی باتوں، جھوٹے وعدوں اور لالچ و خوشامد میں آ کر۔۔۔ منافق حکومت کو چن کر بے وقوف بن جاتے ہیں ۔۔۔اور یہ پہیّہ چند سال بعد دوبارہ گھومتا ہے۔۔۔ اور ہر بار ایسا ہی کیوں ہوتا ہے۔۔۔ ؟

میں کار جہاں سے نہیں آگاہ ولیکن اربابِ نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز

کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد دستور نیا اور نئے دور کا آغاز

معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقت کہہ دے کوئی الّو کو اگر رات کا شہباز

لیکن اب کی بار ۔۔۔ پہیہ پھر سے گھوما ہے۔۔۔ دیکھناصرف یہ ہے کہ بےوقوفوں کو شعور آیا کہ نہیں ۔۔۔

پچھلی دہائیوں میں اب کی بار ٹویسٹ ہے ۔۔۔ پچھلے ٹھپّہ مانگنے والوں کی فہرست میں ستر سال بعد ایک نیا نام شامل ہوا ہے۔۔۔ ایک نئی آواز سنائی دے رہی ہے۔۔۔ ایک نیا جھنڈا لہرا رہا ہے ۔۔۔ایک نیا نشان سامنے آیا ہے۔۔۔ نئے چہرے نظر آ رہے ہیں۔۔۔ ایک نیا نعرہ لگایا جارہا ہے۔۔۔ گلی گلی نگر نگر صدا ہے کہ۔۔۔حاضر ہیں ۔۔۔حاضر ہیں ۔۔۔حاضر ہیں ۔۔۔اے اللہ کے رسول ۔۔۔اے دینِ اسلام ۔۔۔ٹھپّہ تو لگانا ہے ۔۔۔ ہم حاضر ہیں ۔۔۔

مؤرخ لکھے گا۔۔۔ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں دیگر دین و مذہب کے نام پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک نئی ابھرتی مذہبی سیاسی جماعت کا وجود ہوا ۔۔۔ جس نے اللہ کے نبی کی ناموس کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی تھی۔۔۔ اور ٹھپّہ مانگا تھا۔۔۔

سیّد محمد مبشر قادری

ڈائریکٹر : اسکالرز انسائکلوپیڈیا پروجیکٹ

خادم: انجمن ضیائے طیبہ

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi