شام کا لہو


شام کا لہو تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی لہو کی بوند بوند دلِ مسلم پر دستک دینا بند کر چکی ہے ۔۔۔ آہ وبکا اور سسکیوں کو سننے سے قاصر سماعت ۔۔۔ تماش بین نگاہیں ۔۔۔ افسوس کرتے لب،دکھ سے سرجھکاتے اور دنیا کے دھندوں میں گم ہوتے وجود۔۔۔ میرے سامنے سجے میرے لاشے۔۔۔ میرے بچوں کے آنسوؤں سے تر چہرے۔۔۔ ان کے جسم سے ٹپکتا لہو ۔۔۔میری بہنوں کی چیخیں۔۔۔ میری مائیں۔۔۔ میرے بھائی۔۔۔ نوجوان بیٹے کی لاش پر تڑپتا بلکتا بوڑھا باپ ۔۔۔ اور اپنے جوان بیٹے کی لاش پر نوحہ کناں بار بار خون آلود وجود کو چومتی روتی ہوئی ماں ۔۔۔ملبے کے ڈھیر میں دبے خاندان ۔۔۔ بارود سے جلے ہوئے، گردو غبار میں اٹے ہوئےخون آلود چہرے کے ساتھ گود میں اپنے معصوم زخمی بچے کو لیے بے بس باپ، دھواں دھواں فضا میں کسی مسیحا کی تلاش میں چیخ چیخ کر رو رہا ہے۔۔۔فریاد کر رہا ہے۔۔۔ ہر کچھ دنوں کے بعد یہ تماشا پوری دنیا میں لگتا ہے، کبھی برما کی سر زمین تو کبھی فلسطین کے مظلوم مسلمان تو کبھی کشمیر کی وادی تو کبھی عراق و افغانستان توکبھی شام لہو لہو۔۔۔ ایک خونی دائرہ ہے اور دائرے کے درمیان میں بیٹھا سفاک شیطان باری باری خونِ مسلم کی دھار سے لطف اندوز ہو رہاہے۔۔۔ دائرے سے باہر شیطان کے پجاری اس کی جے بلند کرتے ہیں۔۔۔کہیں دکھ درد اور کرب کی چیخ سُن کر رگِ مسلم پھڑک جائے تو دہشت گردی کے تازیانے اس شدت سے برستے ہیں کہ شکم ِ مادر میں موجود وجود بھی لفظِ جہاد سے سہم جاتے ہیں ۔۔۔ مجھ سے کیوں کہتے ہو لکھو ؟ میں بھی تمہاری طرح کا وجود رکھتا بے حس انسان ہوں اے لوگو! میں بھی تم میں سے ہی ہوں ۔۔۔ تمہیں کیا سمجھاؤں؟ میں تمہیں سمجھا بھی تو نہیں سکتا نا !!!! تمہارا حافظہ بھی تو بہت کمزور ہے نا،تم ہر چیز بھلاتے چلے جاتے ہو ۔۔۔کسی نئی چیز اور کسی نئے سانحے پر تعزیت کی رسم ادا کرنے نکل پڑتے ہو ۔۔۔ نپولین کا قول تمہیں یاد ہو گا: ’’سو کتوں پر ایک شیر کو مقرر کر دو تو سو کتے شیروں کی طرح لڑیں گے اور اگر سو شیروں پر ایک کتے کو مقرر کردو تو وہ سو شیروں کو کتے کی موت مروا دے گا۔‘‘ عالمِ اسلام کی کمان کس کے ہاتھ میں ہے؟ شیروں پر کتے کیوں حکومت کر رہے ہیں؟ جب شیروں پر کتے حکومت کریں گے تو شیر تو کتے کی موت مریں گے نا!!!!!!!!!! رک جاؤ رک جاؤ!!!! مکمل سچ سُن کر جانا محراب و منبر کے وارثین جہاد کا ذکر کیوں نہیں کرتے اب؟ عاشقانِ رسول ﷺ کے دعویدار لوگو! تم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو’’غزوات‘‘ آیاتِ قرآنی کی طرح کیوں نہیں پڑھاتے؟ جرأت وبہادری کے جام کیوں نہیں پلاتے؟ مائیں بہادری کی لوری کیوں نہیں سُناتیں؟ جہاد کی کتب تمہارے مکتبوں سے کہاں غائب ہو گئیں؟ تم نے اپنے فتووں کی حرمت کو۔۔۔ آپ ہی پامال کر ڈالا ۔۔۔اپنے ہاتھوں اپنی ہی قبا کو تار تار کر ڈالا ۔۔۔مسندِ علم اجاڑ ڈالی ۔۔۔اپنی ہی پگڑی آپ اچھال ڈالی ۔۔۔پھر رسمِ تعزیت کے نقیب بھی تم، نوحہ کناں بھی تم ہو ۔۔۔ ما تم و گریاں میں شریک بھی تم رسم ِ اہلِ کوفہ کے جانشین بھی تم ہو۔۔۔اے اہلِ کوفہ کچھ دیر نگاہ اپنے گریبانوں پر بھی ۔ اے میری بلکتی قوم! سو شیروں پر مسلط کہیں اقتدار کے حریص کتے، تو کہیں شراب ِ تصوف کے بزدل ساقی۔۔۔کہیں علم کی مناظرانہ شہ سواری۔۔۔کہیں منصب و جاہ کے شیدائی افیمی ۔۔۔مسلط ہیں۔ اے قومِ مسلم تم پر، تمہارے شیروں پر یہ کتے مسلط ہیں جب تک یہ تمہارے شیروں پر مسلط رہیں گے تمہارے شیر کتے کی موت مرتے رہیں گے ۔۔۔ اگر تمہیں درد،کرب اور تڑپ ہے ۔۔۔تو یہ جاننے کی کوشش کرو، دنیا میں ایسا کیوں اور تمہاری باری کتنے دن بعد؟ وہ دہشت گرد ہونے کے باوجود مہذب اور انسان دوست کیوں کر؟ تم مظلوم ہونے کے باوجود دہشت گرد کیوں ؟

Ziae Taiba Monthly Magazine in Karachi